مرکزی مواد پر جائیں
سلوک فاؤنڈیشن
تمام پروگرام
ایک تشخیص، ایک روشن نظر

امراضِ چشم اور موتیا کی تشخیص

بینائی کی جانچ کے کیمپ جہاں موتیا اور نظر کی کمزوری کی تشخیص ہوتی ہے، موقع پر نظر کی عینک دی جاتی ہے، اور ضرورت مند مریضوں کے آپریشن کا خرچ ادارہ اٹھاتا ہے۔

اب تک کے نتائج

۹,۲۰۰+

آنکھوں کی جانچ

۱,۱۴۰

آپریشن کرائے گئے

۳,۶۰۰

عینکیں فراہم کی گئیں

اس میں کیا شامل ہے

  • تربیت یافتہ آپٹومیٹرسٹ کے ذریعے بینائی اور نمبر کی جانچ
  • نظر کی عینک اسی دن تیار کر کے فراہم
  • موتیا کے مریض شراکت دار ہسپتالوں میں، آپریشن کا خرچ ادارے کے ذمے
  • آپریشن کے بعد جائزہ اُسی ضلع کے اگلے کیمپ میں
  • سکولوں میں بچوں کی بینائی کی جانچ کے خصوصی دن

پاکستان میں قابلِ گریز نابینا پن کی سب سے بڑی وجہ موتیا ہے، اور اس کا آپریشن نہ طویل ہے نہ تجرباتی۔ رکاوٹ تقریباً کبھی طبی نہیں ہوتی — رکاوٹ یہ ہے کہ مریض کی جانچ کسی نے نہیں کی، اور خرچ کوئی نہیں اٹھا سکا۔

جانچ کا دن

آپٹومیٹرسٹ بینائی اور نمبر کی جانچ کرتا ہے۔ جن کی نظر عینک سے درست ہو سکتی ہے، اُن کا نمبر موقع پر لیا جاتا ہے اور ہمارے ساتھ موجود لینز اور فریم سے عینک تیار کر کے واپسی سے پہلے دے دی جاتی ہے۔

جن مریضوں میں لینز کی دھندلاہٹ نظر آئے، اُنہیں ماہرِ امراضِ چشم دیکھتا ہے اور موتیا کی تصدیق پر سرجری کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

آپریشن اور بعد کی دیکھ بھال

آپریشن لاہور، کراچی اور پشاور کے شراکت دار ہسپتالوں میں ہوتے ہیں۔ ادارہ آپریشن، لینز، ادویات اور مریض کے سفر کا خرچ برداشت کرتا ہے۔ ہر مریض کے ساتھ ایک تیماردار بھی جاتا ہے۔

آپریشن کے بعد کا جائزہ اُسی ضلع کے اگلے کیمپ میں لیا جاتا ہے، تاکہ مریض کو دوبارہ شہر کا سفر نہ کرنا پڑے۔

سکول

ہماری جانچ کا بڑھتا ہوا حصہ سکولوں میں ہوتا ہے۔ جو بچے بورڈ نہیں پڑھ پاتے اُنہیں اکثر کمزور طالبِ علم سمجھا جاتا ہے، مریض نہیں — حالانکہ ایک عینک اُن کی تعلیم کا رخ ہمارے کسی بھی دوسرے پروگرام سے کم خرچ میں بدل دیتی ہے۔